ابنا: یمن کے نجات انقلاب محاذ کے ایک رہنما علی الدیلمی نے کہا ہے کہ علی عبداللہ صالح یمن میں اصلاح اور تبدیلی کے سلسلے میں ابھی تک خطرناک کردار ادا کر رہا ہے اور یمن میں بر سر اقتدار بعض سیاسی جماعتیں سابقہ حکومت کی پالیسیوں کو جاری رکھ کر یمن کو اس کے پہلے والے مقام پر واپس لے جانے کی کوشش کررہی ہیں۔
دریں اثناء علی عبداللہ صالح نے بھی ایک دھمکی آمیز بیان جاری کر کے سرکاری عہدوں سے اپنے حامیوں اور قریبیوں کے ہٹاۓ جانے کی بابت خبردار کیا ہے۔ علی عبداللہ صالح کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب گزشتہ ہفتے اس ملک کے صدر عبد ربہ منصور نے اس ملک کے سابق ڈکٹیٹر علی عبداللہ صالح کے سوتیلے بھائی احمد علی عبداللہ صالح اور بریگيڈیر علی محسن الاحمر کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔
علی عبداللہ صالح نے اپنے بیان میں اشارتا اس بات کا اعلان کیا ہے کہ اس کے قریبی افراد کو سرکاری عہدوں سے ہٹاۓ جانے کے نتیجے میں یمن کی سلامتی خطرے میں پڑ جاۓ گی۔ حتی اس نے سیاست میں اپنی واپسی کی بھی بات کی ہے۔
علی عبداللہ صالح کی جانب سے بیان جاری کۓ جانے کے معنی یہ ہیں کہ یمن میں ابھی تک اس کو خاص مقام حاصل ہے۔ بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یمن میں اقتدار در پردہ علی عبداللہ صالح کے ہی ہاتھ میں ہے۔ خاص کر اس بات کے پیش نظر کہ عبد ربہ منصور برسہا برس تک اسی کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہناتا رہا ہے۔ اور موجودہ صورتحال میں ان دونوں کی جگہ ہی شائد بدلی ہے لیکن عملی طور پر اقتدار اب بھی علی عبداللہ صالح کے ہی پاس ہے۔
یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے گزشتہ ہفتے فوج کے بعض کمانڈروں کو تبدیل کر دیا تھا۔ علی عبداللہ صالح کے سوتیلے بھائي اور صدارتی گارڈ کے کمانڈر احمد علی عبداللہ صالح اور بریگیڈیر علی محسن الاحمر کی برطرفی سرکاری اداروں کی تطہیر سے متعلق یمنی عوام کا ایک مطالبہ تھا اور عبد ربہ منصور نے عوام کے اسی مطالبے کو پورا کیا ہے لیکن قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ عبد ربہ منصور نے یہ اقدام صرف دکھاوے کے لۓ کیا ہے تاکہ یمن کے عوام میں جو اشتعال پایا جاتا ہے اس کو ختم کیا جا سکے کیونکہ ان افراد کو دوسرے عہدے سونپ دیۓ گۓ ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عبد ربہ منصور نے علی عبداللہ صالح کی پالیسی اختیار کر لی ہے۔ وہ افراد کو ایک ادارے سے ہٹاتا ہے تو ان کو دوسرے عہدے سونپ دیتا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یمن کے جنوبی علاقوں میں حالیہ چند دنوں کی جھڑپوں اور اغواء کی کارروائیوں میں یمن کے سابق ڈکٹیٹر کے عناصر ملوث ہوسکتے ہیں خاص طور اس بات کے پیش نظر کہ علی عبداللہ صالح نے اقتدار چھوڑنے سے قبل کہا تھا کہ اقتدار سے اس کے الگ ہونے کے بعد یمن خانہ جنگی کا شکار ہوجاۓ گا۔
عبد ربہ منصور نے اب تک ملک میں دہشتگرد گروہوں کی کارروائیوں کے خاتمے کے سلسلے میں کوئي ٹھوس اقدام انجام نہیں دیا ہے۔ اس لۓ یہ امکان پایا جاتا ہے کہ علی عبداللہ صالح کے عناصر نے صنعا حکومت کے ساتھ مل کر یمن کے خلاف ایک ایسی سازش تیار کی ہے جس میں عوامی انقلاب کو ہائي جیک کرنا بھی شامل ہے۔....... /169